← Back to Home Islam

جانوروں کے حقوق


اسلام میں حیوانات کے حقوق ایک نہایت اہم اور بنیادی موضوع ہے جس پر قرآن و سنت نے واضح تعلیمات دی ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: *"وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم"* (سورۃ الانعام: 38) یعنی زمین پر چلنے والے ہر جانور اور پرندے بھی تمہاری طرح امتیں ہیں۔ اس آیت سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جانور بھی اللہ کی مخلوق ہیں، ان کا اپنا مقام اور حقوق ہیں جنہیں نظر انداز کرنا ظلم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کو ایمان کا حصہ قرار دیا اور ظلم و زیادتی کو سختی سے منع فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص کسی چڑیا کو بلاوجہ قتل کرے گا، وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے جواب دہ ہوگا۔" اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں جانوروں کے حقوق کو انسانی حقوق کے ساتھ جوڑا گیا ہے اور ان کی حفاظت کو دینی ذمہ داری سمجھا گیا ہے۔

اسلامی تعلیمات میں جانوروں کے ساتھ رحم و شفقت کو نہ صرف اخلاقی بلکہ روحانی اہمیت بھی دی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایک واقعہ بیان فرمایا کہ ایک عورت کو اس لیے جہنم میں داخل کیا گیا کہ اس نے ایک بلی کو قید کر کے نہ کھلایا نہ آزاد کیا تاکہ وہ خود شکار کر سکے۔ اس کے برعکس ایک شخص کو اس لیے جنت میں داخل کیا گیا کہ اس نے پیاسے کتے کو پانی پلایا۔ یہ واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا عمل ہے۔ اسلام میں جانوروں کو تفریح یا کھیل کے لیے ستانا، لڑوانا یا ان پر ظلم کرنا سختی سے منع ہے۔ جانوروں کو ان کی ضرورت سے زیادہ بوجھ اٹھانے پر مجبور کرنا یا انہیں بھوکا پیاسا رکھنا بھی ظلم ہے۔ اس طرح اسلام نے انسان کو یہ ذمہ داری دی ہے کہ وہ جانوروں کے ساتھ عدل، رحم اور شفقت کا برتاؤ کرے۔

اسلامی تاریخ میں خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کے واقعات بھی جانوروں کے حقوق کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا مر گیا تو عمر اس کا ذمہ دار ہوگا۔ یہ قول اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلامی حکومت میں جانوروں کے حقوق کو بھی انسانی حقوق کی طرح اہمیت دی جاتی تھی۔ اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، جنہیں "ابو ہریرہ" یعنی بلیوں کے والد کہا جاتا ہے، جانوروں کے ساتھ محبت اور شفقت کی روشن مثال ہیں۔ ان واقعات سے یہ سبق ملتا ہے کہ جانوروں کے ساتھ رحم و شفقت نہ صرف فرد کی ذمہ داری ہے بلکہ ریاست اور معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔

آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ اسلام نے جانوروں کے حقوق کو ایک جامع نظام کے تحت بیان کیا ہے۔ جانور اللہ کی مخلوق ہیں، وہ بھی اللہ کی تسبیح کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ظلم کرنا اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ اسلام نے جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کو ایمان کا حصہ بنایا اور ظلم کو گناہ کبیرہ قرار دیا۔ آج کے دور میں جب دنیا میں جانوروں پر ظلم عام ہے، اسلام کی یہ تعلیمات انسانیت کے لیے روشنی کا مینار ہیں۔ اگر مسلمان ان تعلیمات پر عمل کریں تو نہ صرف جانوروں کی زندگی بہتر ہوگی بلکہ معاشرہ بھی عدل، رحم اور شفقت سے بھر جائے گا۔ جانوروں کے حقوق کی حفاظت دراصل انسان کے دل کو نرم کرتی ہے، اسے اللہ کے قریب کرتی ہے اور معاشرے میں رحمت و سکون کا ماحول پیدا کرتی ہے۔
Free Web Hosting